# طلاق قبل النکاح علی شرط النکاح

**Institution:** Darul Ifta Kauzariyya
**Category:** Talaq (Divorce)
**Madhab (School):** Hanafi
**Mufti / Jurist:** Mufti Abid Ibrahim Al Kauzari
**Published Date:** October 14, 2026
**Canonical URL:** https://daruliftakauzariyya.com/fatwa-archive/1195-%D8%B7%D9%84%D8%A7%D9%82-%D9%82%D8%A8%D9%84-%D8%A7%D9%84%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AD-%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B7-%D8%A7%D9%84%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AD

---

## Question

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہایک شخص (عبداللہ) حنفی ہے اور دینی علوم کا طالب علم/عالم بھی ہے۔ اس کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے، براہِ کرم مکمل صورتِ حال پڑھ کر شافعی مذہب کے مطابق حکم بتائیں۔عبداللہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا اور کسی عورت سے اس کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ فقہی مسئلے کے مطالعہ اور مذاکرے کے دوران نکاح سے پہلے طلاقِ معلّق کے مسئلے پر گفتگو ہو رہی تھی۔ اسی دوران عبداللہ نے زبان سے واضح طور پر یہ الفاظ کہے:"جب جب میرا نکاح ہوگا، تب تب طلاق۔"یہ بات یقینی ہے کہ الفاظ زبان سے ادا ہوئے تھے۔ اس وقت کوئی بیوی موجود نہیں تھی اور اس کا نکاح بھی نہیں ہوا تھا۔بعد میں جب عبداللہ نے اس مسئلے کا حکم پڑھا اور اسے یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید اس کے کہے ہوئے الفاظ کی وجہ سے آئندہ نکاح پر طلاق واقع ہوجائے گی، تو اسی خوف اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس نے یہ الفاظ دوبارہ بھی واضح طور پر کہے۔ (اس دوسری مرتبہ کہے گئے الفاظ بھی بعینہٖ مفتی صاحب کو بتائے جائیں گے۔)اب عبداللہ کو نکاح کی شدید ضرورت ہے اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں اسے سخت سماجی نقصان اور بدنامی کا اندیشہ ہے۔ وہ حنفی مذہب پر عمل کرتا ہے، لیکن اس خاص مسئلے میں حنفی حکم کی وجہ سے شدید پریشانی میں ہے۔اس علاوہ نکاح ہونے کا جو جو حیلہ فقہ احناف میں اس صورت بھی ممکمن نہیں ہے بہت مجبوری والی بات ہوگئی ہے براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات شافعی مذہب کی معتبر کتابوں کے حوالوں کے ساتھ عنایت فرمائیں:کیا نکاح سے پہلے عبداللہ کے مذکورہ الفاظ ("جب جب میرا نکاح ہوگا، تب تب طلاق") شافعی مذہب میں معتبر تعلیقِ طلاق شمار ہوں گے؟اگر عبداللہ بعد میں کسی عورت سے نکاح کرے تو کیا شافعی مذہب کے مطابق اس نکاح پر طلاق واقع ہوگی یا نکاح صحیح اور غیر مطلقہ رہے گا؟چونکہ عبداللہ حنفی ہے، کیا وہ اس خاص ضرورت کی صورت میں کسی معتبر شافعی مفتی کے فتویٰ پر عمل کرکے نکاح کرسکتا ہے؟کیا اس طرح شافعی قول پر عمل کرنے کی صورت میں عبداللہ گناہ گار ہوگا؟کیا اس معاملے میں شافعی مذہب کا قول اختیار کرنے کے لیے کسی خاص شرط، ضرورت، نیت یا طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے؟اگر ممکن ہو تو براہِ کرم شافعی مذہب کی معتبر اور مستند کتابوں (مثلاً تحفۃ المحتاج، نہایۃ المحتاج، مغنی المحتاج وغیرہ) سے اصل حوالہ بھی عنایت فرمائیں۔یہ مسئلہ نکاح اور طلاق سے متعلق انتہائی حساس ہے، اس لیے براہِ کرم محض عمومی جواب کے بجائے مذکورہ تمام تفصیلات کو سامنے رکھ کر واضح فتویٰ عنایت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً

## Answer / Fatwa Ruling

حنفی مذہب کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’میں جس عورت سے بھی شادی کروں گا، وہ مطلقہ ہو جائے گی‘‘ تو اس کا حکم یہ ہے کہ آئندہ وہ جس عورت سے بھی شادی کرے گا، اس پر طلاق واقع ہو جائے گی۔لیکن سوال میں مذکور شخص نے یہ بات کسی عورت کو طلاق دینے کے ارادے سے نہیں کہی، بلکہ وہ فقہ کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے یہ بات بطورِ شرعی حکم بیان کر رہا تھا۔ اس لیے اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لہٰذا اسے شافعی مذہب کی تقلید کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔اگر آپ شافعی مذہب کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے:شافعی مذہب کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’میں جس عورت سے بھی شادی کروں گا، وہ مطلقہ ہوگی‘‘ تو اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ شافعی مذہب کے مطابق طلاق اسی عورت کو دی جا سکتی ہے جو اس وقت اس کے نکاح میں ہو۔اسی طرح اگر طلاق کے الفاظ فقہی مسئلہ بیان کرنے اور سمجھانے کے طور پر کہے جائیں تو ان الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔&nbsp;&nbsp;

## Scholarly References & Classical Citations

- **الدر المختار مع رد المحتار٢٥٠/٣**
  > لَوْ كَرَّرَ مَسَائِلَ الطَّلَاقِ بِحَضْرَتِهَا، أَوْ كَتَبَ نَاقِلًا مِنْ كِتَابِ امْرَأَتِي طَالِقٌ مَعَ التَّلَفُّظِ، أَوْ حَكَى يَمِينَ غَيْرِهِ فَإِنَّهُ لَا يَقَعُ أَصْلًا مَا لَمْ يَقْصِدْ زَوْجَتَهُ

- **البحر الرائق٢٧٨/٣.**
  > لَوْ كَرَّرَ مَسَائِلَ الطَّلَاقِ بِحَضْرَةِ زَوْجَتِهِ وَيَقُولُ أَنْتِ طَالِقٌ وَلَا يَنْوِي لَا تَطْلُقُ، وَفِي مُتَعَلِّمٍ يَكْتُبُ نَاقِلًا مِنْ كِتَابِ رَجُلٍ قَالَ ثُمَّ يَقِفُ وَيَكْتُبُ: امْرَأَتِي طَالِقٌ وَكُلَّمَا كَتَبَ قَرَنَ الْكِتَابَةَ بِاللَّفْظِ بِقَصْدِ الْحِكَايَةِ لَا يَقَعُ عَلَيْهِ

- **تحفة المحتاج٢٧/٨**
  > (فَلَوْ سَبَقَ لِسَانُهُ بِطَلَاقٍ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ) تَأْكِيدٌ لِفَهْمِهِ مِنْ التَّعْبِيرِ بِالسَّبْقِ (لَغَا) كَلَغْوِ الْيَمِينِ وَمِثْلُهُ تَلَفُّظُهُ بِهِ حَاكِيًا وَتَكْرِيرُ الْفَقِيهِ لِلَفْظِهِ فِي تَصْوِيرِهِ وَدَرْسِهِ

- **تحفة المحتاج٤٢/٨**
  > (خِطَابُ الْأَجْنَبِيَّةِ بِطَلَاقٍ وَتَعْلِيقُهُ بِنِكَاحٍ) كَإِنْ تَزَوَّجْتهَا فَهِيَ طَالِقٌ (وَغَيْرُهُ) كَقَوْلِهِ؛ لِأَجْنَبِيَّةٍ إنْ دَخَلْت فَأَنْتِ طَالِقٌ فَتَزَوَّجَهَا ثُمَّ دَخَلَتْ (لَغْوٌ) إجْمَاعًا فِي الْمُنْجَزِ وَلِلْخَبَرِ الصَّحِيحِ «لَا طَلَاقَ إلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ» وَحَمْلُهُ عَلَى الْمُنَجَّزِ يَرُدُّهُ خَبَرُ الدَّارَقُطْنِيّ «يَا رَسُولَ اللَّهِ إنَّ أُمِّي عَرَضَتْ عَلَيَّ قَرَابَةً لَهَا فَقُلْتُ هِيَ طَالِقٌ إنْ تَزَوَّجْتهَا فَقَالَ - ﷺ - هَلْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مَلَكَ قُلْت لَا قَالَ لَا بَأْسَ» وَخَبَرُهُ أَيْضًا «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ - عَنْ رَجُلٍ قَالَ يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ فَقَالَ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ»

---
*© 2026 Darul Ifta Kauzariyya. Verified and published according to the Islamic legal sources.*