Darul Ifta Kauzariyya

Islamic Query Detail

Qu-Id: Q0078
Madhab: Shafii
Date:
Question:
When taking bath for major impurity , if the nose is not passed with water like specifically , then is the ghusl invalid ? Or is it fine that the face is washed so the nose also comes under that . Jazakallah khair

Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے اسکو حتی الامکان دائم اور مستحکم بنانا ہے لہذا بغیر معتبر عذر کے مرد کا طلاق  دےدینا یا عورت کا خلع  کا مطالبہ کرنا انتہائئ مذموم عمل ہے؛ اور اگر کوئئ اختلاف پیدا ہو جائے تو اپنے دونوں خاندانوں کے دو معتبر شخصوں کو بلا کر انکے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے۔طلاق چونکہ ابغض المباحات ہے  ،اس لئے  اسے اختیار کرنے سے پہلے مصالحت کی  جتنی صورت ہوسکے اسے اختیار کرنا چاہئے حتی الامکان طلاق سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ضرورت کے مطابق ہي قانونی عدالت سے رجوع کرے اور اس سے غلط فائدہ نہ اٹھاے۔ 

اب آپ کے سؤالات کا نمبروار جواب دیا جارہا ہے:خلع کا مطال

1-غیر مسلم عدالت  کے فیصلے سے اگر بیوی نے علاہیدگی اختیار کرلی اور اسمیں کوئ معتبر شرعي وجہ بھی نہیں ہے تو ایسی صورت میں عورت ناشزہ ہے ۔اور شوہر پر اسکا خرچہ دینا لازم نہیں ہیں ۔

2- شریعت کی رو سے بچے کا نفقہ اگر لڑکا ہے تو  وہ بالغ ہونے تک  اور اگر لڑکی ہو تو نکاح ہونے تک  باپ پر ہے البتہ انکا خود مال ہو تو اس مال سے ہےباپ پر ہے البتیہ و نکاح ہونے ت  نہ کہ ماں  پر۔اور میاں بیوی کے  شرعی جدائگی(طلاق یا فسخ) کے بعد اگر بچہ لڑکا ہوں تو سات(7) تک  اور اگر لڑکی ہوں تو بلوغ  تک پرورش کرنے کا حق ماں کو ہے اور اسی دوران باپ جب چاہے اپنے بچوں سے مل سکتے ہیں انکا نفقہ بھی اس پر واجب ہے-اگر ماں پرورش سے  انکار کرے تو اسکو مجبور نہیں کیا جائیگا اور  باپ   کے ذمےانکی پرورش ہے۔عدالتی فیصلے سے فائدہ اٹھاکر شوہر مذکورہ بالا  تفصیل سے زیادہ لازم کرنا گناہ ہے۔

3-جواب نمبر دو میں آگیا ہے البتہ بیوی کا گھر اور بچوں کو چھوڑکر کام کرنا  بلا شرعی وجہ کے درست نہیں اور بیوی سے عدالت کے ذریعے پیسا وصول کرنا   بھی جائز نہیں۔

4-غیر مسلم عدالت  سے  لیا گیا فسخ یا طلاق شرعا معتبر نہیں۔ البتہ اسمیں قانونی کاغذات اور کاروائ  کیا ہے اسکو دیکھ کر ہی صحیح  فیصلہ کیا جاسکتا ۔  ہاں  شوہر خود زبانی طلاق دینے کا اختیار رکھتا  ہے ۔البتہ قانونی  مجبوری ہوں تو خود طلاق دینے کے بعد عدالت کے ذریعے بھی   طلاق کا فیصلہ حاصل کرے۔اور عدت پورے ہونے تک بيوي کا خرچہ اس پر لازم ہے۔

 

والله أعلم بالصواب
Written by: Mufti Rajeeb Al Qasimi
Checked & Approved by: Mufti Ebrahim Desai, South Africa