Darul Ifta Kauzariyya

استفتاء: جبر و اکراہ کی حالت میں طلاق

Qu-Id: IFTA-20260816-0001
Madhab: Shafii
Date: 20-10-2026
Question:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین (بر مسلکِ امام شافعی رحمہ اللہ) اس مسئلہ ہذا میں کہ

محمد مسعود انصاری کا اپنی بیوی سے اختلاف اور لڑائی جھگڑا ہوا۔ صلح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن بیوی اور بیوی کے رشتہ دار صلح پر راضی نہیں ہوئے، بلکہ بیوی کے بھائی، بہن اور بہنوئی کی طرف سے مسلسل ٹارچر، مارپیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔

اتفاقاً ایک رات گھر میں بیوی کے رشتہ دار پہلے سے چھپے ہوئے تھے۔ بیوی نے شوہر کو فون کر کے گھر بلایا، اور جب شوہر گھر میں داخل ہوئے تو اچانک ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ بیوی کے سامنے ہی اس کے رشتہ داروں نے شوہر کو بہت مارا پیٹا اور مسلسل تشدد کرتے رہے۔

پھر ان شر پسندوں نے کہا کہ: "تنویر (بیوی کا نام) کو طلاق دو، تب یہاں سے جانے دیں گے، ورنہ جان سے مار دیں گے۔ اگر پٹن چیرو میں نظر آئے تو جان سے مار دیں گے، اگر پولیس اسٹیشن (P.S.) گئے تو جان سے مار دیں گے، اگر قاضی صاحب کے پاس گئے تو جان سے مار دیں گے۔ اگر جان کی سلامتی چاہتے ہو تو طلاق دو اور یہاں سے چلے جاؤ۔"

محمد مسعود انصاری کا بیان ہے کہ ابتدا میں میں نے کچھ نہیں کہا، لیکن ان سب کا اصرار بڑھتا گیا اور وہ مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

اسی دوران میری بیوی کی بہن اور میری بیوی کے بہنوئی بھی مجھ پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہے۔ خصوصاً میری بیوی کے بہنوئی بار بار مجھ سے یہ الفاظ کہلوانے کی کوشش کرتے رہے کہ: "بولو، میں تنویر کو طلاق دیتا ہوں۔" لیکن میں نے اپنی بیوی کا نام لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے نہ اپنی بیوی کا نام لیا، نہ اسے مخاطب کیا، نہ اس کی طرف دیکھا اور نہ ہی "میں تنویر کو طلاق دیتا ہوں" جیسے الفاظ ادا کیے۔

اس صورتِ حال میں، شدید جبر، اکراہ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے درمیان، بغیر طلاق کی نیت کے میرے منہ سے صرف ایک مرتبہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ نکلے۔

لیکن اس کے بعد میری سالی موبائل کا کیمرہ میرے منہ کے سامنے لے کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی: "ایک بار نہیں، تین بار بولنا پڑتا ہے۔" چنانچہ شدید جبر، اکراہ، تشدد اور اپنی جان بچانے کی خاطر، بغیر اپنی بیوی کا نام لیے، بغیر اسے مخاطب کیے، بغیر اس کی طرف دیکھے اور بغیر طلاق کی نیت کے صرف ان لوگوں کے مطالبے اور ان کے شر سے بچنے کے لیے میں نے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ کہہ دیے اور وہاں سے نکل گیا۔

محمد مسعود انصاری کا بیان ہے کہ طلاق دینے کا نہ تو اس کا ارادہ تھا، نہ اس نے دل میں طلاق کا فیصلہ کیا تھا، بلکہ یہ الفاظ صرف اپنی جان بچانے اور ان لوگوں کے ظلم، تشدد، جبر و اکراہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ادا کیے تھے۔

واضح رہے کہ مذکورہ بیوی سے چار بچے بھی ہیں۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے:

کیا مسلکِ امام شافعی رحمہ اللہ کے مطابق اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

اگر واقع ہوگی تو کتنی طلاق واقع ہوگی؟

کیا شدید جبر، اکراہ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکی کی حالت میں ادا کیے گئے ایسے الفاظ شرعاً معتبر ہوتے ہیں؟

جبکہ شوہر نے اپنی بیوی کا نام نہیں لیا، اسے مخاطب بھی نہیں کیا، اور "میں تنویر کو طلاق دیتا ہوں" جیسے الفاظ کہنے سے بھی انکار کیا، بلکہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ کہے، نیز طلاق کی نیت بھی نہیں تھی، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟

اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کیا صورت ہوگی؟

جواب عنایت فرمائیں۔

والسلام


Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح
شافعی مذہب کے معتمد اور راجح قول کے مطابق سخت دباؤ اور زبردستی کے تحت دی گئی طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی

زبردستی کی طلاق کو باطل قرار دینے کے لیے درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے

1) دھمکی دینے والا شخص نقصان پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہو۔
 2)شوہر کے پاس جان یا مال بچانے کے لیے بھاگنے یا کسی سے مدد لینے کا کوئی راستہ نہ ہو
3) طلاق نہ دینے کی صورت میں قتل، شدید مار پیٹ یا مال کی تباہی کا یقینی خطرہ ہو
4) شوہر کا دل اس طلاق پر بالکل راضی نہ ہو، اور اس نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے الفاظ کہے ہوں 
اگر یہ شرائط موجود ہوں تو زبردستی کہے گئے طلاق کے الفاظ کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے










ولا يقع طلاق مكره وشرط لإكراه قدرة المكره على تحقيق ما هدد به بولاية أو تغلب وعجز المكره عن دفعه بهرب وغيره وظنه إن امتنع حققه ويحصل بتخويف بضرب شديد أو حبس أو إتلاف مال ونحوها
،تحفة المحتاج المنهاج ،النجم الوهاج، ج7 ص 503
والله أعلم بالصواب
Scholarly Verification & Certification