Darul Ifta Kauzariyya

قربانی میں شریک آدمی کا ذبح کرنے کی اجرت لینا

Qu-Id: Q0331
Madhab: Hanafi
Date: 01-01-1970
Question:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اگر قربانی کے بڑے جانور میں کوئی ایک حصے دار ایسا ہو جو جانور ذبح کرنا جانتا ہو. مثلاً قصائی ہو تو اگر وہ ذبح جانور کی پہلے اجرت طے کرکے قربانی کرے جبکہ وہ خود اسی جانور میں شریک ہے تو کیا اس کے اس فعل کی وجہ سے اسکی اور دوسرے حصے داروں کی قربانی درست نہ ہوگی؟ فتاویٰ محمودیہ جلد17 صف 315 ط اشرفی دیوبند میں ایک مسئلہ درج ہے "" سوال:جو شخص غریب ہے کیا صرف جانور خریدنے سے اس کے ذمے قربانی واجب ہوجاتی ہے؟ الجواب :اگر وہ قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے جانور خریدے گا تب اس کے ذمے قربانی واجب ہوگی-فقط واللہ اعلم. تو کیا اس مسئلے کی رو سے اگر کوئی غریب 10 ذی الحجہ سے پہلے کوئی جانور خریدے اور پھر کسی مجبوری سے بیچ دے تو یہ درست ہوگا ہا نہیں؟؟ کیا محض خریدنے سے قربانی کا وجوب ہوجائے گا یا نہیں؟ یا ایام قربانی میں خریدنے سے وجوب ہوگا؟؟

Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

1) قربانی کے حصہ داروں میں سے
 کسی کے لئے جانور کو ذبح کر کے اس کی اجرت لینا درست نہیں- البتہ تمام  حصہ داروں کی قربانی صحیح و جائے گی

2) ایام قربانی سے پہلے کسی فقیر نے جانور خریدے تو اس پر اضحیہ لازم نہ ہوگی اور اس کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں

والله أعلم بالصواب
Written by: Althaf Qasimi
Checked & Approved by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari
Published by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari