Darul Ifta Kauzariyya

کیا زنا سے سچے دل سے توبہ کرنے والے مرد کے لیے پاک دامن لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے؟

Qu-Id: Q0513
Madhab: Hanafi
Date: 01-01-1970
Question:
ایک زانی مرد جو زنا سے سچی پکّی توبہ کر چکا ہے اور اسکا نکاح غیر زانیہ پاکدامن لڑکی کے ساتھ ہوگیا ہےکیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں۔جبکہ سورہ نور میں ہے کی زانی مرد کے لئے زانیہ عورت ہے اور مومن سے زانی مرد عورت کا نکاح حرام ہے

Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

اس برائی میں مبتلا ہونا جوازِ نکاح سے مانع نہیں ہے، یعنی لڑکا اور لڑکی اگر دونوں مسلمان ہیں اور دونوں کے درمیان حرمت کا کوئی رشتہ بھی نہیں اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے دونوں کا نکاح ہوجائے   تو وہ صحیح اور منعقد ہوجاتا ہے 

آیت کریمہ میں زنا کی قباحت کا بیان ہے،کسی حکم شرعی کا بیان نہیں ہے، یعنی: زنا اس قدر قبیح اور برا کام ہے کہ جو شخص اس گندے فعل کا ارتکاب کرتا ہے، اس کا نیک لوگوں سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا، اس کا جوڑ اپنے جیسے برے لوگوں یعنی: بدکار مرد یا بدکار عورت سے ہوتا ہے

اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ زنا کار مرد، کسی نیک خاتون سے نکاح کے لائق نہیں ہوتا، وہ صرف اپنی جیسی بدکار عورت یا اس سے بھی زیادہ بری: مشرکہ عورت سے نکاح کے لائق ہوتا ہے۔ اسی طرح بدکار عورت کسی نیک مرد سے نکاح کے لائق نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ اپنے جیسے بدکار مرد یا اس سے بھی زیادہ برے: مشرک مرد سے نکاح کے لائق ہوتی.

جب کے سوال میں مذکور شخص اپنے گناہ سے توبہ بھی کر لیے لہاذا اس سے نکاح کرنے میں کوئی قباحت بھی نہیں

والله أعلم بالصواب
Written by: Anwar Navas Kousari
Checked & Approved by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari
Published by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari