Darul Ifta Kauzariyya

عيسائي لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں

Qu-Id: Q0181
Madhab: Hanafi
Date: 01-01-1970
Question:
السلام عليكم میرا نام عثمان ہے میں پاکستان کراچی شہر سے ہو محترم میں ایک کریسٹن لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہو جو کے مسلمان نہیں ہونا چاہتی اور وہ پہلے ایک مسلمان کے نکاح میں تھی جس کے ساتھ اس لڑکی کے 18 سال رہ چوکھی تی پر وہ ١٠ ماہ سے الگ ہوگئے تھےالگ الگ ملک میں پر انکا طلاق ابھی ہوا ہے 10 ماہ کے بعد تو اسلام میں اس عورت سے نکاح کرناجائز ہے یا نہیں اور یہ عورت عددت میں بیٹے گی یا نہیں اور اگر بھیٹنا بھی ہوگا تو کتنے وقت کے لئے کیو کے وہ کرسٹن ہے اور 10 ماہ تک وہ اپنے شوہر سے ملی تک نہیں اور انکی آدھی فیملی مسلمان ہے آدھی عیسا ئ کھا نا پینا حلال ہے انکا پر لڑکی حضرت عیسا علیہ سلام کو خدا کا بیٹا مانتی ہے کیا اس سے نکاح جائز ہے یا نہیں اسلام اور قرآن کے روشنی میں اگر جائز ہے تو انکے لئے عدد ت کا کیا طریقہ ہوگا جب کے لڑکی نے خود طلاق لیا ہے ؟

Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

حامدا ومصليا

مسیحی عورت سے مسلمانوں کا شادی کرنا بنیادی طور پر جائز ہے تاہم ایسی شادیوں کو رواج دینایاحوصلہ افزائی کرنا غیر مناسب ہے کیونکہ اسکااثر بچوں کےعقائداوران کی  پرورش پرپڑیگاعلماءکرام نے واضح طورپرذکرفرمایاہے کہ یہ شادی مذکورہ وجوہات کی بناء پر مكروه ہے۔
 جہاں تک عیسائی عورت کی عدت کامسئلہ ہے تواس کو مسلمان عورت کی طرح ہی عدت مکمل کرنا ہے

والله أعلم بالصواب
Written by: Mufti Abdul Hakkim
Checked & Approved by: Mufti Rajeeb Al Qasimi
Published by: Mufti Rajeeb Al Qasimi