Darul Ifta Kauzariyya

طلاق کے بارے میں

Qu-Id: Q0244
Madhab: Hanafi
Date: 01-01-1970
Question:
مکرمی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں؟ یہ کہ زید شادی شدہ ہے اور اسکے دو بچے ہیں ۔ ایک دن زید کا اپنی بیوی سے کسی بات کو لے کر تنازعہ ہو جاتا ہے تنازعہ اس قدر بڑھتا ہے کہ زید اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور ایک نشست میں لاتعداد مرتبہ طلاق کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور زید کی بیوی اسکے گھر سے چلی جاتی ہے ۔پھر دو دن کے بعد کچھ لوگوں کی ثالثی پر زید اور اسکی بیوی میں صلح ہو جاتی ہے اور عورت دوبارہ زید کے گھر لوٹ آتی ہے اور اسکے ہمراہ رہنے لگتی ہے ۔ تقریباً دو ماہ بھی نہیں گزرتے ہیں کہ دونوں میں دوبارہ تنازعہ شروع ہو جاتا ہے اور زید یہ کہتے ہوئے اس عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے کہ وہ تو اسکو دو ماہ قبل ہی طلاق دے چکا ہے ۔ تو کیا پہلی نشست میں زید اور اسکی بیوی کے درمیان طلاق ہوگیا ؟ اگر طلاق ہوگیا تو دونوں کا ایک ساتھ دو ماہ گزارنا کیسا ہے؟ نوٹ۔۔۔۔۔۔ زید نے فقط طلاق کا لفظ استعمال کیا اسکی نوعیت بیان نہیں کی

Answer:
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق والنجاح

الجواب :زید نے ایک ‏ ‏دفعہ ‏طلاق کا لفظ کہنے کے بعد  باربار محض تاکید کی نیت ہے لفظ طلاق دہرایا ہے . اور جدید طلاق کی نیت نہیں کی تو دیانة ایک رجعی طلاق واقع ہوگی . تین حیض کی مدت کے اندر اندر صلح کرکے واپس آنا ہی رجعت ہے دونوں کا ایک ساتھ دو ماہ گزارنا جائز تہا 
 

والله أعلم بالصواب
Written by: Al Usthad Ilyas Al Kauzari
Checked & Approved by: Mufti Rajeeb Al Qasimi
Published by: Mufti Rajeeb Al Qasimi