طلاق معلق علی شرط النکاح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص (زید) حنفی المذہب ہے۔ تقریباً 8 سال قبل دورانِ تعلیم فقہی مذاکرہ کے موقع پر طلاق سے متعلق مسئلہ بیان کرتے ہوئے زید نے واضح طور پر زبان سے یہ الفاظ کہے تھے:
"جب جب میں نکاح کروں گا، تب تب طلاق ہوگی"
الفاظ واضح طور پر ادا کیے گئے تھے، البتہ اس وقت زید کا کسی عورت سے نکاح نہیں تھا۔ یہ بات فقہی مذاکرہ اور مسئلہ سمجھانے کے دوران کہی گئی تھی، کسی موجودہ بیوی کو طلاق دینے کے لیے نہیں، کیونکہ اس وقت کوئی بیوی موجود ہی نہیں تھی۔
اب تقریباً آٹھ سال بعد زید نکاح کرنا چاہتا ہے اور اسے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ اس وقت کہے ہوئے الفاظ کا آئندہ نکاح پر کیا اثر ہوگا۔
براہ کرم شافعی مذہب کی روشنی میں درج ذیل سوالات کا جواب عنایت فرمائیں:
اگر نکاح سے تقریباً آٹھ سال پہلے کسی شخص نے واضح طور پر کہا ہو: "جب جب میں نکاح کروں گا، تب تب طلاق ہوگی"، تو کیا شافعی مذہب کے مطابق بعد میں ہونے والے نکاح پر طلاق واقع ہوگی؟
کیا شافعی فقہ میں نکاح سے پہلے طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کرنا شرعاً معتبر ہوتا ہے یا نہیں؟
اگر اس وقت یہ الفاظ فقہی مذاکرہ میں بطورِ مثال/مسئلہ سمجھانے کے لیے کہے گئے تھے اور کسی حقیقی بیوی کو طلاق دینے کا قصد نہیں تھا، تو کیا اس سے حکم میں کوئی فرق پڑتا ہے؟
اگر شافعی مذہب کے مطابق ایسی صورت میں بعد کے نکاح پر طلاق واقع نہیں ہوتی، تو کیا ایک حنفی شخص ضرورت کی صورت میں اس شافعی قول پر عمل کرتے ہوئے نکاح کرسکتا ہے؟
اگر حنفی شخص کے لیے شافعی قول اختیار کرنے کے سلسلے میں کوئی شرط، ضرورت، تقویٰ یا کسی معتبر شافعی مفتی کی اجازت ضروری ہو، تو براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔
براہ کرم جواب معتبر شافعی کتب کے حوالہ جات کے ساتھ عنایت فرمائیں، خصوصاً الأم، الحاوي الكبير، مغني المحتاج، تحفة المحتاج وغیرہ سے۔
جزاکم اللہ خیراً۔
والسلام
حنفی مذہب کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’میں جس عورت سے بھی شادی کروں گا، وہ مطلقہ ہو جائے گی‘‘ تو اس کا حکم یہ ہے کہ آئندہ وہ جس عورت سے بھی شادی کرے گا، اس پر طلاق واقع ہو جائے گی۔
لیکن سوال میں مذکور شخص نے یہ بات کسی عورت کو طلاق دینے کے ارادے سے نہیں کہی، بلکہ وہ فقہ کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے یہ بات بطورِ شرعی حکم بیان کر رہا تھا۔ اس لیے اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ لہٰذا اسے شافعی مذہب کی تقلید کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
اگر آپ شافعی مذہب کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے:
شافعی مذہب کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’میں جس عورت سے بھی شادی کروں گا، وہ مطلقہ ہوگی‘‘ تو اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ شافعی مذہب کے مطابق طلاق اسی عورت کو دی جا سکتی ہے جو اس وقت اس کے نکاح میں ہو۔
اسی طرح اگر طلاق کے الفاظ فقہی مسئلہ بیان کرنے اور سمجھانے کے طور پر کہے جائیں تو ان الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔