استفتاء: جبر و اکراہ کی حالت میں طلاق
محترم و مکرم حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد از سلام مسنون!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام، مفتیانِ عظام اور فقہائے اسلام مسئلۂ ذیل کے بارے میں؟
صورتِ مسئلہ:
ایک میاں بیوی کے درمیان بعض گھریلو اختلافات کی بنا پر کافی عرصے سے بات چیت بند تھی۔ بیوی بار بار اپنے شوہر سے مطالبہ کرتی تھی کہ تم مجھے طلاق دے دو ، میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ شوہر اس کے جواب میں یہ کہتا تھا کہ:
’’میں کسی صورت تمہیں طلاق نہیں دوں گا، خواہ مجھے جان کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو؛ البتہ تمہیں جو شکایت یا پریشانی ہے، اسے دور کرنے کے لیے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہوں۔‘‘
چند دن بعد بیوی نے دس افراد کو بلایا اور ان سب نے مل کر جم کر مارا،پیٹا، بعد ازاں ان لوگوں نے شوہر کو دھمکی دی،کہ بیوی کو ابھی طلاق دو ورنہ جان سے مار دیں گے۔
اس صورتِ حال میں شوہر نے اپنی جان بچانے اور مزید نقصان سے محفوظ رہنے کی غرض سے صرف اتنا کہا: ’’ٹھیک ہے، طلاق دیتا ہوں۔‘‘
اسکے بعد ان افراد نے شوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ صراحت کے ساتھ تین مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کرے۔ چنانچہ شوہر نے ان کے اصرار اور جان کے خوف کے تحت تین مرتبہ یہ الفاظ کہے:
"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
واضح رہے کہ:
شوہر کا حقیقتاً طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
اس نے یہ الفاظ شدید دباؤ اور جان کے خوف کی وجہ سے کہے تھے۔
اس نے یہ الفاظ بیوی کو مخاطب کرکے نہیں کہے تھے۔
اس کا مقصد صرف اپنے آپ کو فوری خطرے سے بچانا تھا، نہ کہ نکاح ختم کرنا۔
نیز لڑکی کے بہنوئی نے کہا کہ تم بیوی کا نام لے کر ان کو طلاق دو، تو شوہر نے نام نہیں لیا، صرف اتنا کہا کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔
مذکورہ صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا شوہر کے مذکورہ الفاظ سے شرعاً طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ نیز اکراہ (جبر و دباؤ) کی حالت میں ادا کیے گئے ایسے الفاظ کا کیا حکم ہے؟
قرآن و سنت، اقوالِ فقہاء اور کتبِ معتبرہ کی روشنی میں مدلل، مفصل اور تشفی بخش جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
والسلام
المستفتی: محمد شیث
مقام : پیپرپانتی۔
ضلع پورنیہ۔ بہار۔
سوال میں بیان کردہ واقعہ ایسا ہی پیش ائی تو فقہ شافعی کی مطابق اس حالت میں طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ شوہر کو مار ڈالنے کا دھمکی دے کر طلاق کہلوائی گئی ہے یہ طلاق بالاکراہ بہے طلاق بالاکراہ شرعا واقعہ نہیں ہوگی
تفصیل کےلۓ دیکۓ فتوی
https://daruliftakauzariyya.com/f/123